ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / 35دن کے زبردست احتجاج اور7دورکے مذاکرات کے بعد تھوڑی سرکارجھکی،تھوڑا کسان 2؍ایشوزپر رضامندی،4جنوری کو پھر مذاکرہ

35دن کے زبردست احتجاج اور7دورکے مذاکرات کے بعد تھوڑی سرکارجھکی،تھوڑا کسان 2؍ایشوزپر رضامندی،4جنوری کو پھر مذاکرہ

Thu, 31 Dec 2020 11:13:18    S.O. News Service

نئی دہلی،31؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی)نئے زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر 35دن کے زبردست اور سلسلہ وار احتجاج و مظاہرے اور 7دور کے مذاکرات کے بعد آخرکارسرکار کچھ جھکتی ہوئی نظرآرہی ہے -

مرکزی حکومت کے نمائندوں اور کسان لیڈروں کے درمیان وگیان بھون میں 5گھنٹے تک چلی میٹنگ ختم ہو گئی، لیکن کسانوں کے 4مطالبات میں سے دو کو تسلیم کرنے سے حکومت نے رضا مندی دے دی ہے-پانچ گھنٹوں کی بات چیت کے بعد بجلی کے بل اورپرالی سے متعلق دو امور پر اتفاق ہوگیاہے- حکومت کسانوں کے تحفظات دور کرنے پر راضی ہوگئی ہے-زرعی قانون اور ایم ایس پی سے متعلق اختلافات اب بھی برقرار ہیں - اس کے بعد کسان قائدین نے بھی نرمی کا مظاہرہ کیا- انہوں نے 31 دسمبر کو ہونے والی ٹریکٹر ریلی ملتوی کردی-

ذرائع کے مطابق حکومت نے کسانوں کو بھروسہ دلایا ہے کہ الیکٹری سٹی 2020 بل نہیں لایا جائے گا اور دہلی-این سی آر کی فضا صاف رکھنے سے متعلق قانون میں کسانوں کا تذکرہ نہیں ہوگا جس میں پرالی جلانے پر ایک کروڑ روپے تک جرمانہ کی بات کہی گئی ہے- ایک طرف جہاں مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے آج کی میٹنگ کو امید افزا ٹھہرایا وہیں کسان لیڈر راکیش ٹکیت کا کہنا ہے کہ آج کی بات چیت سے ہم خوش ہیں - لیکن جب تک سبھی مسائل کا حل نہیں نکل جاتا، ہماری تحریک جاری رہے گی- اس درمیان یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ آئندہ میٹنگ 4 جنوری کو طے کی گئی ہے-

 


Share: